95 Novels of Ibn e Safi

 ابن صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ آپ اردو ادب کے نامور ناول نگار اور شاعر تھے۔ آپ کے تحریراتی کاموں میں جاسوسى دنيا اور عمران سيريز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ افسانے اور طنز و مزاح بھی لکھتے ھتے۔ابن صفی 26 جولائی 1928 کو الہ آباد، اتر پردیش کے ایک گاؤں نارا میں صفی اللہ اور نذیراً بی بی کے گھر پیدا ہوئے۔ اردو زبان کے شاعر نوح ناروی رشتے میں ابن صفی کے ماموں لگتے تھے۔ ابن صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم نارا کے پرائمری اسکول میں حاصل کی۔ میٹرک ڈی اے وی اسکول الہ آباد سے کیا جبکہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم الہ آباد کے ایونگ کرسچن کالج سے مکمل کی۔ 1947 میں الہ آباد یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا۔

1951ء کے اواخر میں بے تکلف دوستوں کی محفل میں کسی نے کہا تھا کہ اردو میں صرف فحش نگاری ہی مقبولیت حاصل کرسکتی ہے۔ ابن صفی نے اس بات سے اختلاف کیا اور کہا کہ کسی بھی لکھنے والے نے فحش نگاری کے اس سیلاب کو اپنی تحریر کے ذریعے روکنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے۔ اس پر دوستوں کا موقف تھا کہ جب تک بازار میں اس کا متبادل دستیاب نہیں ہوگا، لوگ یہی کچھ پڑھتے رہیں گے۔ یہی وہ تاریخ ساز لمحہ تھا جب ابن صفی نے ایسا ادب تخلیق کرنے کی ٹھانی جو بہت جلد لاکھوں پڑھنے والوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ عباس حسینی کے مشورے سے اس کا نام جاسوسى دنيا قرار پایا اور ابن صفی کے قلمی نام سے انسپکٹر فریدی اور سرجنٹ حمید کے کرداروں پر مشتمل سلسلے کا آغاز ہوا جس کا پہلا ناول دلیر مجرم مارچ 1952ء میں شائع ہوا۔

ناول بھیانک آدمی کو ماہانہ جاسوسی دنیا نے نومبر 1955ء میں کراچی کے ساتھ ساتھ "الہ آباد" سے بیک وقت شائع کیا تھا۔ اکتوبر 1957ء میں ابن صفی نے اسرار پبلیکیشنز کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کے تحت جاسوسی دنیا کا پہلا ناول ٹھنڈی آگ شائع ہوا۔ 1958ء میں ابن صفی، لالو کھیت سے کراچی کے علاقے ناظم آباد منتقل ہوگئے۔ جنوری 1959ء میں ابن صفی اسرار پبلیکیشنز کو فردوس کالونی منتقل کرچکے تھے اور یوں انہیں اپنی تخلیقات کو پروان چڑھانے کے لیے ایک آرام دہ ماحول میسر آگیا۔ ناظم آباد کی رہائش گاہ میں وہ 1980ء میں اپنے انتقال تک مقیم رہے۔ابن صفی کے بقول، ان کے صرف آٹھ ناولوں کے مرکزی خیال کسی اور سے مستعار لئے ہیں باقی کے 245 ناول مکمل طور پر ان کے اپنے ہیں۔


ڈاؤن لوڈ کیجئے


































































































Share To:

kausar gulnaz

Post A Comment:

0 comments so far,add yours

Thanks for your comment